11 ستمبر 2026 - 00:23
آبنائے ہرمز میں امریکہ کے لئے سپاہ پاسداران کے دو اچنبھے

سپاہ پاسداران نے حالیہ دنوں میں دو حیران کن کارروائیوں کے ذریعے خطے میں امریکی افواج کو دو اچنبھوں سے دوچار کیا ہے؛ ایسے اچنبھے جنہوں نے ایک بار پھر امریکی افواج کو ورطۂ حیرت میں ڈال کر اور امریکی دشمن کے ہر قسم کے حملوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || سپاہ کی بحریہ نے آبنائے ہرمز کے داخلی راستے پر ایک کارروائی میں ایک ذہین اور بغیر عملے کی امریکی ابدوز "Dive-LD" ہے، کو صحیح و سالم اپنے قبضے میں لے لیا؛ یہ مشن اور زیر آب اہداف کا شکار، زیر آب ماحول کے پیچیدہ حالات شناخت و تعاقب کی دشواری کی وجہ سے مشکل مشنز میں شمار ہوتا ہے اور اس کے لئے معلوماتی برتری، خصوصی آلات اور عملی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔

آبنائے ہرمز میں امریکہ کے لئے سپاہ پاسداران کے دو اچنبھے

اسی حوالے سے، بین الاقوامی امور کے ماہر ڈاکٹر سعد اللہ زارعی نے فارس نیوز کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے اس کارروائی اور خطے میں امریکی افواج کے سامنے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے دیگر حالیہ حیرت انگیز جنگی اقدامات کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے۔

ڈاکٹر زارعی نے دیتے ہوئے کہا: اس منظر میں جو کچھ ہم نے دیکھا وہ سپاہ کی بحری اور ایرواسپیس صلاحیتوں کا ایک مجموعہ تھا جس میں دونوں شعبوں میں نئے واقعات رونما ہوئے۔

انھوں نے آبنائے ہرمز کے دہانے کے قریب ایک بغیر عملے کی امریکی آبدوز کے شکار کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا: اس آبدوز کو پھنسانے کے لئے معلوماتی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ نگرانی، حفاظتی اور عملی اقدامات بھی درکار تھے۔ اس نظام کو ساحلی علاقوں کی طرف ہدایت دینے کے لئے بھی آپریشنل اقدامات کا ایک سلسلہ انجام دینا ضروری تھا۔

امریکی آبدوز کا شکار؛ کثیر جہتی اور پیچیدہ کارروائی

انھوں نے مزید کہا: دوسری طرف، چونکہ یہ اقدام دشمن کی نظروں سے پوشیدہ نہیں رہ سکتا تھا، اس لئے امریکیوں کی طرف سے کارروائی کو ناکام بنانے کے امریکی اقدامات کو ناکارہ بنانے کے لئے احتیاطی اقدامات کا ایک مجموعہ بھی انجام دیا گیا؛ لہٰذا یہاں جو کچھ ہؤا وہ ایک کثیر جہتی اور پیچیدہ اقدام تھا۔

زارعی نے واضح کیا: اس کارروائی نے درحقیقت سمندر میں امریکی فوج کے لئے ایک انتباہی گھنٹی بجا دی؛ کیونکہ انہیں معلوم ہؤا کہ حتیٰ کہ بڑے امریکی بحری جہاز اور جنگی کشتیاں بھی اسی طرح کے اقدامات کی زد میں آ سکتی ہیں اور یہ معاملہ خطے میں موجود دیگر امریکی بحری جہازوں کے لئے ایک ضمنی خطرہ شمار ہوتا ہے۔

انھوں نے اس حیران کن اقدام پر ایک امریکی فوجی اہلکار کے ردعمل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: گذشتہ دن ایک امریکی فوجی اہلکار نے امریکی میڈیا سے گفتگو میں اعتراف کیا کہ تقریباً 2.5 ملین ڈالر مالیت کے ایک بغیر عملے کی آبدوز کے ساتھ جو کچھ ہؤا وہ دیگر امریکی بحری جہازوں، جنگی کشتیوں اور سمندری اوزاروں کے بارے میں بھی دہرایا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر زارعی نے نشاندہی کی: امریکی فریق کے اسی اعتراف سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس واقعے نے امریکی فوجی دستوں میں کس قدر تشویش اور خوف پیدا کر دیا ہے۔

امریکی بحری جہاز کے اوپر پروازیں اور ریننگ میزائلز کی لانچنگ

زارعی نے سپاہ پاسداران کے ایک اور اقدام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ایک اور اقدام جو سپاہ نے انجام دیا اور بعض حوالوں سے حیران کن تھا، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز پر کم بلندی پر پرواز اور اس کے خلاف میزائل کارروائی کا اجرا تھا۔

انھوں نے مزید کہا: اس کارروائی میں ایک میزائل امریکی بحری جہاز کے اوپر پہنچا اور پھر وہ تقریبا 30 میزائلوں میں تبدیل ہؤا جنہیں کچھ لوگوں نے "کلسٹر" یا "بارانی (ریننگ)" میزائل قرار دیا ہے۔ یہ اقدام بھی اپنی نوعیت میں انتہائی اہمیت کا حامل تھا اور اس نے عیاں کیا کہ سپاہ پاسداران امریکی افواج کو حیرت زدہ کرنے کے لئے مختلف النوع صلاحیتوں سے لیس ہے۔

زارعی نے اختتام پر کہا: ان اقدامات کے مجموعے نے امریکیوں کے لئے یہ سنجیدہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران امریکی فوجی افواج کا مقابلہ کرنے اور خطے میں اس ملک کے فوجی منصوبوں کو ناکام بنانے کے لئے کہاں تک حیرت انگیز اقدامات انجام دینے اور اچنبھے دکھانے کی نئی صلاحیتیں رکھتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha